کلیئرنگ ایجنٹ کا کردار ختم، درآمد کنندگان کی سہولت کے لیے نیا نظام نافذ


اب درآمد کنندگان ’ماڈل جی ڈی‘ گھر بیٹھے ہی کمپیوٹرسسٹم میں فیڈ کرسکیں گے۔(فوٹو:فائل)

اب درآمد کنندگان ’ماڈل جی ڈی‘ گھر بیٹھے ہی کمپیوٹرسسٹم میں فیڈ کرسکیں گے۔(فوٹو:فائل)

لاہور: حکومت نے کوریا اور جاپان کی طرز پر درآمد کنندگان کو مالی فائدہ پہنچانے اور سہولت دینے والا نیا نظام متعارف کرادیا جس سے ڈرائی پورٹ پر کلیئرنگ ایجنٹ کا کردار ختم ہوگیا۔

درآمد کنندگان کے سامان کی آسان کلیرینس کےلیے محکمہ کسٹم ڈائریکٹر ریفامز حکام نے آٹومیٹک کمپیوٹرائزڈ سسٹم ملک بھر میں نافذ کر دیا ہے، جس کے لیے ’وی بوک‘ ریفرنس نمبر215/2169 بھی جاری کردیا گیا ہے۔ اس ریفرینس کے تحت پرنسپل آپریزر اور آپریزر کے’ ماڈل جی ڈی‘ ،’انٹری‘ گڈز ڈیکلریشن کو چیک کرنے کے اختیارات ختم کردئیے گے ہیں۔

اب درآمد کنندگان ’ماڈل جی ڈی‘ گھر بیٹھے ہی کمپیوٹرسسٹم میں فیڈ کرسکیں گے، اورکنٹینرز میں سامان کی کسٹم ڈیوٹی کی ادائیگی کےلیے ’ماڈل جی ڈی‘ گڈز ڈیکلریشن میں فیڈ سامان کے حوالے سے کمپیوٹر آٹومیٹک سسٹم کے تحت کسٹم ڈیوٹی لگا دے گا جس کے بعد امپورٹر کسٹم ڈیوٹی اور شپنگ کمپنی کا کرایہ ادا کرنے کے بعد ڈرائی پورٹ سے چند گھنٹوں کے بعد اپنا کنٹینرز لیجا سکے گا۔

یہ بات زیر غور رہے کہ درآمد کنندہ کی جانب سے’گڈز ڈیکلریشن‘ میں کنٹینرز میں ظاہر کیے گئےسامان کی جگہ کوئی اور سامان نکل آیا تو کسٹم حکام آئندہ سے اس امپورٹر کو بلیک لسٹ میں شامل کردیں اور پھر وہ گرین سگنلز سسٹم میں شامل نہیں ہوسکے گا۔

اس حوالے سے ملک بھر کے تمام چیف کلکٹرزکسٹم، ڈائریکٹرز جنرل کسٹم، کلیکٹرزکسٹم اور ڈائریکٹرز کسٹم کو نوٹیفکیشن بھجوادیا گیا ہے۔ اس نئے نظام سے ڈرائی پورٹس سے کنٹینرز کو کلیئر کروانے میں کسٹم کلیرنگ ایجنٹس کردار ختم ہوجائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کسٹم حکام درآمد کنندہ کی جانب سے ’ماڈل جی ڈی‘ گڈز ڈیکلریشن میں ظاہر کی گئی چیزوں میں سے کسی بھی ایک کنٹینرکو صرف یہ دیکھنے کےلیے چیک کرسکتے ہیں کہ آیا درآمد کنندہ نے جوچیز گڈز ڈیکلریشن میں لکھی ہے وہ ہے یا نہیں۔

اگر کنٹینر میں ظاہر کی گی چیزوں کے برعکس اشیا نکلیں تو نہ صرف اس امپوٹرز سے متعلقہ سامان کی کسٹم ڈیوٹی وصول کی جائےگی بلکہ آئندہ کےلیے اس امپوٹرکو گرین سگنلزسسٹم سے نکال کر بلیک لسٹ سسٹم میں ڈال دیا جائےگا اور اس درآمد کنندہ کے ہر منگوائے گئے سامان کو چیک کرنے کے بعد ہی ڈرائی پورٹ سے باہر بھیجا جاسکےگا۔





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *