خستہ ہال ٹریک بروقت تبدیل نہ کرنے سے ٹرین حادثات بڑھ گئے


گینگ مین اسٹاف اور ٹیکینکل وسائل نہ ہونے کی وجہ سے تین ماہ کے دوران مسافر ٹرین کا دوسرا بڑا حادثہ

گینگ مین اسٹاف اور ٹیکینکل وسائل نہ ہونے کی وجہ سے تین ماہ کے دوران مسافر ٹرین کا دوسرا بڑا حادثہ

 لاہور: ریلوے انتظامیہ کی غفلت اور خستہ ہال ٹریک کو بروقت تبدیل نہ کئے جانے کی وجہ سے سکھر ڈویژن میں حادثات بڑھ گئے۔

گینگ مین اسٹاف اور ٹیکینکل وسائل نہ ہونے کی وجہ سے تین ماہ کے دوران مسافر ٹرین کا دوسرا بڑا حادثہ ہوگیا۔ افسران کی باقاعدگی سے ٹریک کی فٹ پلیٹ نہ کرنے کی وجہ سے حادثات بڑھتے جارہے ہیں۔ ملت اور سرسید ایکسپریس ٹرین کے جائے حادثہ پر انتظامیہ اور ریلف ٹرین بھی 5 گھنٹوں کی تاخیر میں پہنچی۔

ریلف کرین کا کام پٹری سے نیچے گری ہوئی بوگیوں کو اٹھاکر ٹریک پر کھڑا کرنا ہوتا ہے جبکہ ملت ایکسپریس ٹرین کی بوگیاں سرسید ٹرین کی انجن میں بری طرح پھنس جانے کی وجہ سے انجن اور بوگیوں کو کاٹنے کےلئے ہیوی مشینری منگوائی گئی۔ گریڈ 21 کے فیڈرل گورنمنٹ انسپکٹر نے بھی گزشتہ کراچی حادثہ کی انکوائری رپورٹ میں ڈی ایس سکھر کو اس ڈویژن کے لئے رسک قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گھوٹکی کے قریب 2 مسافر ٹرینوں میں تصادم سے 36 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی

ذرائع کا کہنا ہے کہ سکھر ڈویژن میں مین لائن کا تمام ٹریک اپنی معیاد مدت مکمل کرچکا ہے باوجود اسکے اسکو تبدیل نہیں کیا جارہا ہے جبکہ ریلوے حکام نے اس ٹریک کو تبدیل کرنے کے حوالے سے اسے “ سی پیک “ کے ساتھ مشروط کیا ہوا ہے لیکن حادثات بڑتھے جارہے ہیں۔

7 مارچ کو بھی سکھر ڈویژن میں ٹریک کھل گیا تھا اور چلتی ٹرین کراچی ایکسپریس کی پانچ بوگیاں پٹری سے نیچے اترگی تھی جس کے نتیجہ میں ایک خاتون اور مسافر جاں بحق ہونے سمیت دیگر افراد زخمی ہوگئے تھے۔





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *